سیاہ 

بستر میرا  مجھے روز بے جان کرتا ہیں

میں نے کئی بار خود کو ہلانا چاہا

پر ہر بار میں نے اپنے جسم پہ 

ایک بہت بھاری 

کسی کے سائے کو محسوس کیا

Advertisements

سفر دربدر

 زندگی کے سفر کو سمجھا تھا آسان بہت

نکلے تھے اپنے خوابوں کے سفر کو ساتھ لئے 

ہاتھ میں چند نوٹ لیے

ساتھ برسوں جما کچھ سامان تھا

وہ نوٹ اب توپھسل گئے ہتھیلی سے

جو بچا ہیں وہ کاغذوں کے دستے ہیں

جن کے ساتھ دربدر ہوتی خواہشات لئے

کبھی نا امیدی میں پسے ہوئے

کبھی دردر کی ٹھوکر کھاتے ہوئے

گزر رہیں ہیں دوسروں کے ہا

شاموں دن دربدر ہوکر

تم

میرا جسم تم سے مشابہ نہیں 

 تم اور مجھ میں بس تھوڑا ہی فرق ہے

اس تھوڑے فرق کی بناء پر

تم

مجھے ڈھیر کرنا  چاہتے ہو ؟

خود سے کم تر ثابت کرنا چاہتے ہو؟

مجھے پیچھے دھکیلنا چاہتے ہو؟

تم

ڈرتے ہو میں تمھاری جگہ نہ لے لو

تم

اپنی ہوس کا نشانہ بنانا چاہتے ہو

جگہ جگہ سے رسوا کر کے نکالناچاہتے ہو

ہاں

تم نے کتنی ہی بار مجھے

گھر میں 

راہ پر

ادارے کی چاردیواری میں

گلی کوچوں اور بازاروں میں

اپنی نظروں سے ہراساں کیا

توکہی موقع ملتے ہی

میرے جسم کو نشاناں بنانے سے تم تھوڑا سابھی نہیں ہچکچائے

تمھارا بس چالےتو

تم

 بیھچ سڑک میرا ریپ کرتے ہوئے نہ ہچکائو

پر پھر بھی

تم

کتنی ہی بار چلتےپھرتے آپنی آنکھوں سے میرا ریپ کرتے ہو

تم 

اس حد تک بھوکے ہو کہ تمھارا بس چلے تو

تم

کہی بھی میرے تن سے کپڑے نوچ کر آپنی ہوس کاسامان بنا لو

تم

سمجھتے ہو میں کمزور ہو

شاید

پر شاید ایسا نہیں  

ابھی تک

  تمھارا سامنا کل کی عورت سے ہوا

تم

ذرا آج کی عورت کا سامنا تو کرو

خالی پیٹ

بھوک کیا ہوتی ہے کون جانے

جانے بس وہی جانے

جس کا پیٹ خالی ہیں 

جس کا ہاتھ خالی ہے

جس کے پاس ذرہ نہیں روٹی کا

 جو بے بس ہیں حالات سے

جو بے حال ہیں اپنے حال پہ

میں اور تم

سوچا ہے کبھی 

میں اور تم کتنے دور دور رہتے ہے

پتہ ہے نہ کیو

 نہیں تو ذرا بتائو

چلو سن لو پھر

تم جانتے تو ہو 

میں عورت ہا میں 

عورت 

اور تم مرد 

صیح کہا نہ

نام الگ ہے 

ذات الگ ہے

جسم الگ ہے

 روح الگ ہے 

سوچ کا تو کیا کہنا

پر ذرا یہ تو بتائو 

کہ تمہاری اور میری چاہ 

ایک ہے نہ

تم اور میں

ایک ہے نہ

تو یہ دوری کیسی جاناں؟

 تمھاری اور میری چاہ کافی نہیں کیا؟

تم اور میں کچھ بھی نہیں کیا؟

سب کچھ تو یہ سماج ہے 

اور اس میں رہنے والے ہے

وہ نہ سمجھے 

وہ نہ جانے

کہ تم اور میں کون ہے

وہ تو بس جھوٹے رکھوالے ہے

وہ کیا جانے تم اور میں کون ہے 

وہ تو جانے 

بس یہی جانے 

میں اور تم کچھ بھی نہیں ہے