تم

میرا جسم تم سے مشابہ نہیں 

 تم اور مجھ میں بس تھوڑا ہی فرق ہے

اس تھوڑے فرق کی بناء پر

تم

مجھے ڈھیر کرنا  چاہتے ہو ؟

خود سے کم تر ثابت کرنا چاہتے ہو؟

مجھے پیچھے دھکیلنا چاہتے ہو؟

تم

ڈرتے ہو میں تمھاری جگہ نہ لے لو

تم

اپنی ہوس کا نشانہ بنانا چاہتے ہو

جگہ جگہ سے رسوا کر کے نکالناچاہتے ہو

ہاں

تم نے کتنی ہی بار مجھے

گھر میں 

راہ پر

ادارے کی چاردیواری میں

گلی کوچوں اور بازاروں میں

اپنی نظروں سے ہراساں کیا

توکہی موقع ملتے ہی

میرے جسم کو نشاناں بنانے سے تم تھوڑا سابھی نہیں ہچکچائے

تمھارا بس چالےتو

تم

 بیھچ سڑک میرا ریپ کرتے ہوئے نہ ہچکائو

پر پھر بھی

تم

کتنی ہی بار چلتےپھرتے آپنی آنکھوں سے میرا ریپ کرتے ہو

تم 

اس حد تک بھوکے ہو کہ تمھارا بس چلے تو

تم

کہی بھی میرے تن سے کپڑے نوچ کر آپنی ہوس کاسامان بنا لو

تم

سمجھتے ہو میں کمزور ہو

شاید

پر شاید ایسا نہیں  

ابھی تک

  تمھارا سامنا کل کی عورت سے ہوا

تم

ذرا آج کی عورت کا سامنا تو کرو

خالی پیٹ

بھوک کیا ہوتی ہے کون جانے

جانے بس وہی جانے

جس کا پیٹ خالی ہیں 

جس کا ہاتھ خالی ہے

جس کے پاس ذرہ نہیں روٹی کا

 جو بے بس ہیں حالات سے

جو بے حال ہیں اپنے حال پہ

میں اور تم

سوچا ہے کبھی 

میں اور تم کتنے دور دور رہتے ہے

پتہ ہے نہ کیو

 نہیں تو ذرا بتائو

چلو سن لو پھر

تم جانتے تو ہو 

میں عورت ہا میں 

عورت 

اور تم مرد 

صیح کہا نہ

نام الگ ہے 

ذات الگ ہے

جسم الگ ہے

 روح الگ ہے 

سوچ کا تو کیا کہنا

پر ذرا یہ تو بتائو 

کہ تمہاری اور میری چاہ 

ایک ہے نہ

تم اور میں

ایک ہے نہ

تو یہ دوری کیسی جاناں؟

 تمھاری اور میری چاہ کافی نہیں کیا؟

تم اور میں کچھ بھی نہیں کیا؟

سب کچھ تو یہ سماج ہے 

اور اس میں رہنے والے ہے

وہ نہ سمجھے 

وہ نہ جانے

کہ تم اور میں کون ہے

وہ تو بس جھوٹے رکھوالے ہے

وہ کیا جانے تم اور میں کون ہے 

وہ تو جانے 

بس یہی جانے 

میں اور تم کچھ بھی نہیں ہے